بخوبی ہمچو مہ تابندہ باشی
دلچسپ معلومات
کچھ اشعار کا اردو منظوم ترجمہ عزیز وارثی دہلوی نے کیا ہے
بخوبی ہمچو مہ تابندہ باشی
بملک دلبری پایندہ باشی
تیرا خوبصورت چہرہ چاند کی طرح چمکتا رہے، ملک حسن پہ تیری بادشاہی سلامت رہے۔
من درویش را کشتی بہ غمزہ
کرم کردی الٰہی زندہ باشی
تیری قاتلانہ نگاہ نے مجھ غریب کو مار ڈالا، کرم کیا تو نے خدا تجھے زندگی دے۔
جفا کم کن کہ فردا روز محشر
بروئے عاشقاں شرمندہ باشی
ذرا کم ظلم کر، اس لیے کہ قیامت کے دن
تجھے عاشقوں کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا
ز قید دو جہاں آزاد باشم
اگر تو ہم نشین بندہ باشی
میں دونوں جہانوں کی قید سے آزاد ہو جاؤں، اگر کبھی تو میرا ہمسفر ہو جائے۔
جہاں سوزی اگر در غمزہ آئی
شکر ریزی اگر در خندہ باشی
تمہاری نگاہِ ناز سے نظامِ دنیا بدل جاتا ہے، اور تمہاری مسکراہٹ سے مٹھاس بکھر جاتی ہے۔
برندی و بشوخی ہمچو خسروؔ
ہزاراں خانماں برکندہ باشی
تمہاری شوخی اور رندی کے سبب، خسرو کے جیسے ہزاروں گھر تباہ ہو گئے ہیں۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 371)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.