Font by Mehr Nastaliq Web

دمک اٹھی ہے فضا ماہتاب خواب کے ساتھ

بدر عالم خلش

دمک اٹھی ہے فضا ماہتاب خواب کے ساتھ

بدر عالم خلش

دمک اٹھی ہے فضا ماہتاب خواب کے ساتھ

دھڑک رہا ہے یہ دل کس رباب خواب کے ساتھ

ہٹے غبار جو لو سے تو میری جوت جگے

جلوں میں پھر سے نئی آب و تاب خواب کے ساتھ

ہے سو اداؤں سے عریاں فریب رنگ انا

برہنہ ہوتی ہے لیکن حجاب خواب کے ساتھ

تو کیوں سزا میں ہو تنہا گناہ گار کوئی

یہاں تو جیتے ہیں سب ارتکاب خواب کے ساتھ

شرار سنگ سے سنگلاخ ہو گئے تلوے

ہوا نہ کچھ دل خانہ خراب خواب کے ساتھ

سلائے رکھا ہمیں بھی فریب منزل نے

چلے تھے ہم بھی کسی ہمرکاب خواب کے ساتھ

سراغ ملتا نہیں پیاس کے سفینوں کا

بھنور بھی ہوتے ہیں شاید سراب خواب کے ساتھ

حقیقتوں کی چٹانوں پہ چل گیا جادو

لو وہ بھی چلنے لگیں اب سحاب خواب کے ساتھ

عجب نہیں وہی منظر نظارہ بن جائے

ڈرا رہا ہے یہ ڈر اضطراب خواب کے ساتھ

دراڑیں رہ گئیں بیداریوں کے نقشے پر

نہ ہم رہے نہ وہ تم انقلاب خواب کے ساتھ

نگاہ دیدۂ تعبیر کے حوالے خلشؔ

ہے یہ بیاض الگ انتخاب خواب کے ساتھ

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے