بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لیے
بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لیے
صدف بنا تھا یہ شاید اسی گہر کے لیے
بلا خریدی ہے میں نے یہ عمر بھر کے لیے
تمہاری زلف کا سودا ہے میرے سر کے لیے
جو بے غرض نہ ہو جس میں نہ ہو خلوص کوئی
سلام ایسے تعلق کو عمر بھر کے لیے
شب فراق کی لذت کہاں نصیب انہیں
دعائیں مانگتے رہتے ہیں جو سحر کے لیے
ہوا یہی کہ رکے بزم غیر میں جا کر
ارادہ کر کے چلے تھے وہ میرے گھر کے لیے
ہمارے دل کو متاع حیات کب سمجھا تھا
نشانہ چاہیے اس شوخ کو نظر کے لیے
جو داستان غم و درد کا خلاصہ ہو
مجھے وہ اشک ہے درکار چشم تر کے لیے
ہوس کی آنکھ سے اوجھل ہے بندگی کا مقام
علو عجز ہی معراج ہے بشر کے لیے
عدم کو لے کے چلا ہوں نصیرؔ داغ فراق
یہ زاد راہ بہت ہے مجھے سفر کے لیے
- کتاب : کلیات نصیرؔ گیلانی (Pg. 693)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.