Font by Mehr Nastaliq Web

بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لیے

پیر نصیرالدین نصیرؔ

بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لیے

پیر نصیرالدین نصیرؔ

MORE BYپیر نصیرالدین نصیرؔ

    بسے ہیں آپ مرے دل میں عمر بھر کے لیے

    صدف بنا تھا یہ شاید اسی گہر کے لیے

    بلا خریدی ہے میں نے یہ عمر بھر کے لیے

    تمہاری زلف کا سودا ہے میرے سر کے لیے

    جو بے غرض نہ ہو جس میں نہ ہو خلوص کوئی

    سلام ایسے تعلق کو عمر بھر کے لیے

    شب فراق کی لذت کہاں نصیب انہیں

    دعائیں مانگتے رہتے ہیں جو سحر کے لیے

    ہوا یہی کہ رکے بزم غیر میں جا کر

    ارادہ کر کے چلے تھے وہ میرے گھر کے لیے

    ہمارے دل کو متاع حیات کب سمجھا تھا

    نشانہ چاہیے اس شوخ کو نظر کے لیے

    جو داستان غم و درد کا خلاصہ ہو

    مجھے وہ اشک ہے درکار چشم تر کے لیے

    ہوس کی آنکھ سے اوجھل ہے بندگی کا مقام

    علو عجز ہی معراج ہے بشر کے لیے

    عدم کو لے کے چلا ہوں نصیرؔ داغ فراق

    یہ زاد راہ بہت ہے مجھے سفر کے لیے

    مأخذ :
    • کتاب : کلیات نصیرؔ گیلانی (Pg. 693)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے