اصدق پیا اصدق پیا دل میرا پکارے دل میرا پکارے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت قیام الدین اصدق (بہار شریف-نالندہ)
اصدق پیا اصدق پیا دل میرا پکارے دل میرا پکارے
طوفاں سے کشتی کو لگا دیجے کنارے لگا دیجے کنارے
بھر دے گل مقصود سے دامن کو ہمارے دامن کو ہمارے
دربار میں آیا ہوں میں ہاتھ پسارے ہاتھ پسارے
کافی ہے تری چشم عنایت ہمیں اصدق عنایت ہمیں اصدق
بگڑے ہوئے بن جائیں گے سب کام ہمارے سب کام ہمارے
اللہ کے پیارے ہو تم محبوب کے محبوب محبوب کے محبوب
صدقہ ہے تم پر چاند نچھاور ہیں ستارے نچھاور ہیں ستارے
اصدق تیرے دیوانہ کا اب حال برا ہے اب حال برا ہے
رات ہجر میں کاٹی تو دن فرقت میں گذارے دن فرقت میں گذرارے
ہر وقت ہے اب دھیان میں اصدق تری صورت اصدق تری صورت
دکھ درد کے میرے ہو تمہیں ایک سہارے تمہیں ایک سہارے
دنیا سے غرض مجھ کو نہ عقبیٰ سے ہے مطلب نہ عقبیٰ سے ہے مطلب
دن رات میں بےچین ہوں فرقت میں تمہارے فرقت میں تمہارے
در چھوڑ کے تیرا تو بتادے کہاں جائیں بتادے کہاں جائیں
بگڑی ہوئی باتوں کو میری کون سنوارے میری کون سنوارے
ہو جائے اگر خواب میں اصدق کی زیارت اصدق کی زیارت
تو جاننا چمکے ہیں مرے بخت کے تارے مرے بخت کے تارے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.