ہوتا ہے جلوہ گر کوئی بالائے بام روز
ہوتا ہے جلوہ گر کوئی بالائے بام روز
پڑتا ہے مجھ کو طور کے شعلہ سے کام روز
قاصد کے پاؤں توڑ تے ہیں وہ تمام روز
کرتے ہیں ایک آنے میں سو اہتمام روز
مشکل ہے اب تو تارِ گریباں بھی ٹوٹنا
زنجیر توڑتے تھے کبھی صبح و شام روز
کس دن ہٹ آئے معرکۂ امتحان سے
مجنوں سے آگے بڑھ گئے دو چار گام روز
بولے نہ ایک بات بھی تم واہ رے حجاب
ہوتے رہے دہن سے ہمارے کلام روز
مرتے ہیں یاد ابروئے پر خم میں جان سے
رہتی ہے سر پہ تیغ قضا بے نیام روز
میں دیکھتا ہوں رعب سے مرتے ہیں مدعی
کرتی ہے آنکھ دیدۂ عیسیٰ کا کام روز
تحقیق اپنی چاہئے علم و ہنر میں گرمؔ
مشکل ہے اقتدیت بہندا الامام روز
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.