Font by Mehr Nastaliq Web

ہوتا ہے جلوہ گر کوئی بالائے بام روز

بشیرالحق گرم

ہوتا ہے جلوہ گر کوئی بالائے بام روز

بشیرالحق گرم

MORE BYبشیرالحق گرم

    ہوتا ہے جلوہ گر کوئی بالائے بام روز

    پڑتا ہے مجھ کو طور کے شعلہ سے کام روز

    قاصد کے پاؤں توڑ تے ہیں وہ تمام روز

    کرتے ہیں ایک آنے میں سو اہتمام روز

    مشکل ہے اب تو تارِ گریباں بھی ٹوٹنا

    زنجیر توڑتے تھے کبھی صبح و شام روز

    کس دن ہٹ آئے معرکۂ امتحان سے

    مجنوں سے آگے بڑھ گئے دو چار گام روز

    بولے نہ ایک بات بھی تم واہ رے حجاب

    ہوتے رہے دہن سے ہمارے کلام روز

    مرتے ہیں یاد ابروئے پر خم میں جان سے

    رہتی ہے سر پہ تیغ قضا بے نیام روز

    میں دیکھتا ہوں رعب سے مرتے ہیں مدعی

    کرتی ہے آنکھ دیدۂ عیسیٰ کا کام روز

    تحقیق اپنی چاہئے علم و ہنر میں گرمؔ

    مشکل ہے اقتدیت بہندا الامام روز

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے