جلوۂ زلف و رخ اے شعبدہ گر ہے کہ جو تھا
جلوۂ زلف و رخ اے شعبدہ گر ہے کہ جو تھا
اس شب و روز کا دور آٹھ پہر ہے کہ جو تھا
روز عیش ایک گھڑی روز مصیبت برسوں
دن زمانے میں وہی چار پہر ہے کہ جو تھا
تھک گئی عمر رواں بادِ صبا بھی ٹھہری
نفس سردا بھی گرم سفر ہے کہ جو تھا
دستِ ساقی میں ہے اب تک وہی پیمانۂ مے
شاخ نازک سے وصال گل تر ہے کہ جو تھا
نہ وہ آندھی نہ وہ صحرا نہ وہ جوش وحشت
وحشیٔ عشق مگر خاک بسر ہے کہ جو تھا
شام کے بال کھلے ہیں ابھی میرے غم میں
چاک اسی طرح گریبان سحر ہے کہ جو تھا
بے ثباتی پہ ہے گریاں ابھی تک چشم حباب
خندہ زن عمر پہ اپنی گلِ تر ہے کہ جو تھا
بت نکالے گئے کعبہ سے کبھی کے اے بزمؔ
دل جاناں میں وہی غیر کا گھر ہے کہ جو تھا
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 414)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.