رنگینیاں جو تھیں مری بزم خیال میں
رنگینیاں جو تھیں مری بزم خیال میں
سب صرف ہوگئیں تری شان جمال میں
آیا بہ شکل عیش یہ کافر ہزار بار
آئے نہ اہل دل غم ہستی کی چال میں
ہے بے نیاز دور فلک کا ئنات عشق
یاں کوئی تفرقہ نہیں ماضی و حال میں
برباد ہم کو ان کی کدورت نے کر دیا
ارمان دفن ہوگئے گرد و ملال میں
یہ راہ وہ نہیں کہ جسے روک دیں رقیب
جب جانیں وہ نہ آئیں ہمارے خیال میں
ان کو پسند آ گیا لہجہ کلیم کا
لکنت سے کچھ مدد ہی ملی بول چال میں
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 415)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.