Font by Mehr Nastaliq Web

رنگینیاں جو تھیں مری بزم خیال میں

بزم اکبرآبادی

رنگینیاں جو تھیں مری بزم خیال میں

بزم اکبرآبادی

MORE BYبزم اکبرآبادی

    رنگینیاں جو تھیں مری بزم خیال میں

    سب صرف ہوگئیں تری شان جمال میں

    آیا بہ شکل عیش یہ کافر ہزار بار

    آئے نہ اہل دل غم ہستی کی چال میں

    ہے بے نیاز دور فلک کا ئنات عشق

    یاں کوئی تفرقہ نہیں ماضی و حال میں

    برباد ہم کو ان کی کدورت نے کر دیا

    ارمان دفن ہوگئے گرد و ملال میں

    یہ راہ وہ نہیں کہ جسے روک دیں رقیب

    جب جانیں وہ نہ آئیں ہمارے خیال میں

    ان کو پسند آ گیا لہجہ کلیم کا

    لکنت سے کچھ مدد ہی ملی بول چال میں

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 415)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے