دل نے اک بوند لہو کی جو چھپا رکھی ہے
دل نے اک بوند لہو کی جو چھپا رکھی ہے
یہ امانت تری اے دزدِ حنا رکھی ہے
پاسبان شرم نگہبان حیا رکھی ہے
بیچ میں آپ نے دیوار اٹھا رکھی ہے
کم نہ ہو نعمتِ دیدار یہاں بھی جو بٹے
تم نے کیوں روز قیامت پہ اٹھا رکھی ہے
سانس کو روکے ہوئے کیوں ہے حباب لب جو
کس کے دم دینے کو اتنی سی ہوا رکھی ہے
باغ میں لالہ شفق چرخ پہ دل میں تپ عشق
ہر جگہ تم نے نئی آگ لگا رکھی ہے
صحبت غیر میں گھونگٹ نہ دوپٹہ نہ نقاب
کون سے پردہ میں شرم آج چھپا رکھی ہے
صبح جاؤ گے جو تم درد جگر روکے گا
اسی دن کے لیے یہ رات لگا رکھی ہے
بے زبانی کا یہ صدقہ ہے جو وہ چھیڑتے ہیں
کچھ خموشی نے مری بات بنا رکھی ہے
وصل کا راز ہے نسیاں کے حوالے بالکل
اپنے دل سے بھی تری بات چھپا رکھی ہے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 410)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.