Font by Mehr Nastaliq Web

دل نے اک بوند لہو کی جو چھپا رکھی ہے

بزم اکبرآبادی

دل نے اک بوند لہو کی جو چھپا رکھی ہے

بزم اکبرآبادی

MORE BYبزم اکبرآبادی

    دل نے اک بوند لہو کی جو چھپا رکھی ہے

    یہ امانت تری اے دزدِ حنا رکھی ہے

    پاسبان شرم نگہبان حیا رکھی ہے

    بیچ میں آپ نے دیوار اٹھا رکھی ہے

    کم نہ ہو نعمتِ دیدار یہاں بھی جو بٹے

    تم نے کیوں روز قیامت پہ اٹھا رکھی ہے

    سانس کو روکے ہوئے کیوں ہے حباب لب جو

    کس کے دم دینے کو اتنی سی ہوا رکھی ہے

    باغ میں لالہ شفق چرخ پہ دل میں تپ عشق

    ہر جگہ تم نے نئی آگ لگا رکھی ہے

    صحبت غیر میں گھونگٹ نہ دوپٹہ نہ نقاب

    کون سے پردہ میں شرم آج چھپا رکھی ہے

    صبح جاؤ گے جو تم درد جگر روکے گا

    اسی دن کے لیے یہ رات لگا رکھی ہے

    بے زبانی کا یہ صدقہ ہے جو وہ چھیڑتے ہیں

    کچھ خموشی نے مری بات بنا رکھی ہے

    وصل کا راز ہے نسیاں کے حوالے بالکل

    اپنے دل سے بھی تری بات چھپا رکھی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 410)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے