Font by Mehr Nastaliq Web

کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا

داغ دہلوی

کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا

داغ دہلوی

MORE BYداغ دہلوی

    کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا

    دیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا

    میرے قابو میں نہ پہروں دل ناشاد آیا

    وہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا

    کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیا

    کہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا

    لائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میں

    کس مصیبت سے ترا کشتۂ بیداد آیا

    جذب وحشت ترے قربان ترا کیا کہنا

    کھنچ کے رگ رگ میں مرے نشتر فصاد آیا

    اس کے جلوے کو غرض کون و مکاں سے کیا تھا

    داد لینے کے لیے حسن خداداد آیا

    بستیوں سے یہی آواز چلی آتی ہے

    جو کیا تو نے وہ آگے ترے فرہاد آیا

    دل ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیں

    کام کس کس کے مرا خرمن برباد آیا

    عشق کے آتے ہی منہ پر مرے پھولی ہے بسنت

    ہو گیا زرد یہ شاگرد جب استاد آیا

    ہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھنا

    جب مرے ہاتھ کوئی خامۂ فولاد آیا

    عید ہے قتل مرا اہل تماشا کے لیے

    سب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا

    چین کرتے ہیں وہاں رنج اٹھانے والے

    کام عقبیٰ میں ہمارا دل ناشاد آیا

    دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات

    ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا

    میرے نالے نے سنائی ہے کھری کس کس کو

    منہ فرشتوں پہ یہ گستاخ یہ آزاد آیا

    غم جاوید نے دی مجھ کو مبارک بادی

    جب سنا یہ کہ انہیں شیوۂ بیداد آیا

    میں تمنائے شہادت کا مزا بھول گیا

    آج اس شوق سے ارمان سے جلاد آیا

    شادیانہ جو دیا نالہ و شیون نے دیا

    جب ملاقات کو ناشاد کی ناشاد آیا

    لیجیے سنیے اب افسانۂ فرقت مجھ سے

    آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا

    آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغؔ نہیں

    ہم کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے