Font by Mehr Nastaliq Web

آئی ہوئی عاشق کی طبیعت نہیں جاتی

داغ دہلوی

آئی ہوئی عاشق کی طبیعت نہیں جاتی

داغ دہلوی

MORE BYداغ دہلوی

    آئی ہوئی عاشق کی طبیعت نہیں جاتی

    آتی ہے تو آکر یہ قیامت نہیں جاتی

    اللہ سے محشر میں کہوں گا ترے آگے

    مجبور ہو ں میں اس کی محبت نہیں جاتی

    جاتی ہے مری جان یہ میں کہہ نہیں سکتا

    جب تک اسے تم دو نہ اجازت نہیں جاتی

    ہر چند ملا ہے مگر اس میں بھی وفا ہے

    گھر غیر کے میری شب فرقت نہیں جاتی

    اول تو انہیں شرم رہی منھ سے نہ بولے

    جب شرم گئی وصل کی حجت نہیں جاتی

    اٹھ اٹھ کے وہ سو جاتے ہیں ہر بار شب وصل

    یہ نیند بھری آنکھوں کی غفلت نہیں جاتی

    سر جاتا ہے سر سے ترا سودا نہیں جاتا

    دل جاتا ہے ویسے تری الفت نہیں جاتی

    اے داغؔ برا مان نہ تو اس کے کہے کا

    معشوقوں کی گالی سے تو عزت نہیں جاتی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے