آئی ہوئی عاشق کی طبیعت نہیں جاتی
آئی ہوئی عاشق کی طبیعت نہیں جاتی
آتی ہے تو آکر یہ قیامت نہیں جاتی
اللہ سے محشر میں کہوں گا ترے آگے
مجبور ہو ں میں اس کی محبت نہیں جاتی
جاتی ہے مری جان یہ میں کہہ نہیں سکتا
جب تک اسے تم دو نہ اجازت نہیں جاتی
ہر چند ملا ہے مگر اس میں بھی وفا ہے
گھر غیر کے میری شب فرقت نہیں جاتی
اول تو انہیں شرم رہی منھ سے نہ بولے
جب شرم گئی وصل کی حجت نہیں جاتی
اٹھ اٹھ کے وہ سو جاتے ہیں ہر بار شب وصل
یہ نیند بھری آنکھوں کی غفلت نہیں جاتی
سر جاتا ہے سر سے ترا سودا نہیں جاتا
دل جاتا ہے ویسے تری الفت نہیں جاتی
اے داغؔ برا مان نہ تو اس کے کہے کا
معشوقوں کی گالی سے تو عزت نہیں جاتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.