جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو
جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو
خلش کیوں ہو طپش کیوں ہو قلق کیوں ہو فغاں کیوں ہو
مزا آتا نہیں تھم تھم کے ہم کو رنج و راحت ہو
خوشی ہو غم ہو جو کچھ ہو الٰہی ناگہاں کیوں ہو
یہ مصرعہ لکھ دیا ظالم نے میرے لوح مرقد پر
جو ہو فرقت کی بیتابی تو یوں خوابِ گراں کیوں ہو
غضب آیا ستم ٹوٹا قیامت ہوگئی برپا
یہ پوچھا تھا کہ تم آزردہ مجھ سے میری جاں کیوں ہو
نئی تاکید ہے ضبطِ محبت کی وہ کہتے ہیں
جگر ہو تو فغاں کیوں ہو دہن ہو تو زباں کیوں ہو
نوید جاں فزا ہے کیا خبر قاتل کے آنے کی
بتاؤ تو سہی تم داغؔ ایسے شادماں کیوں ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.