Font by Mehr Nastaliq Web

جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو

داغ دہلوی

جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو

داغ دہلوی

MORE BYداغ دہلوی

    جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو

    خلش کیوں ہو طپش کیوں ہو قلق کیوں ہو فغاں کیوں ہو

    مزا آتا نہیں تھم تھم کے ہم کو رنج و راحت ہو

    خوشی ہو غم ہو جو کچھ ہو الٰہی ناگہاں کیوں ہو

    یہ مصرعہ لکھ دیا ظالم نے میرے لوح مرقد پر

    جو ہو فرقت کی بیتابی تو یوں خوابِ گراں کیوں ہو

    غضب آیا ستم ٹوٹا قیامت ہوگئی برپا

    یہ پوچھا تھا کہ تم آزردہ مجھ سے میری جاں کیوں ہو

    نئی تاکید ہے ضبطِ محبت کی وہ کہتے ہیں

    جگر ہو تو فغاں کیوں ہو دہن ہو تو زباں کیوں ہو

    نوید جاں فزا ہے کیا خبر قاتل کے آنے کی

    بتاؤ تو سہی تم داغؔ ایسے شادماں کیوں ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے