بے وجہ ہے آثار شبِ ماہ نہیں آج
بے وجہ ہے آثار شبِ ماہ نہیں آج
آئے گا مقرر مرا وہ ماہ جبیں آج
آیا جو پئے فاتحہ وہ طفل حسیں آج
ہے ناز پہ کیا کیا مرے مدفن کی زمیں آج
ہشیار رہو بلبلو ڈر ہے یہ مجھ کو
پھر دام بچھائے نہ ہو صیاد کہیں آج
پابند غم ہجر ہوں احسان ہو تیرا
اے جان جو تو تن سے نکل جائے کہیں آج
اک حال پہ دیکھا نہ کسی کو کبھی میں نے
تھا کون سا آباد جو ویران نہیں آج
مرتا ہوں ارے اب بھی تو چلمن کو اٹھا دے
شرما نہیں للہ بُت پردہ نشیں آج
گلزار و مئے و ساغر و محبوب گل اندام
موجود ہیں سب ہائے پہ ساقی ہے نہیں آج
کیوں خانۂ دل میں نہ ہو عشرت کا سر انجام
مدت پہ ہے مہمان مرا وہ طفل حسیں آج
ہے غرق شفق برق بھی ہوتا ہے دھوکا
سیندور سے ہے یار کی جو لال جبیں آج
لوٹوں میں مزا خوب شب وصل کا فائقؔ
آ جائے مرے گھر میں جو وہ ماہ جبیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.