Font by Mehr Nastaliq Web

مخلوق کیوں نہ اس پہ دل و جاں فدا کرے

فائق گیاوی

مخلوق کیوں نہ اس پہ دل و جاں فدا کرے

فائق گیاوی

MORE BYفائق گیاوی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    مخلوق کیوں نہ اس پہ دل و جاں فدا کرے

    جو خاک کو بچشم زدن کیمیا کرے

    زندہ دلوں کی موت ہے بڑھ کر حیات سے

    آبِ حیات خضر پیے تو پیا کرے

    کیا التہاب ہے تپ فرقت کا الحفیظ

    دشمن کو بھی نہ اس میں خدا مبتلا کرے

    بھولے بتوں کی یاد دلِ بے قرار سے

    بندہ جو ورد نام رسول خدا کرے

    رونے کو بیٹھا نوح کے طوفاں کے سامنے

    رہ جائے تیری آبرو فائقؔ خدا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے