Font by Mehr Nastaliq Web

میں بندۂ ناچیز یہ کیا مانگ رہا ہوں

فیاض احمد فیاض

میں بندۂ ناچیز یہ کیا مانگ رہا ہوں

فیاض احمد فیاض

MORE BYفیاض احمد فیاض

    میں بندۂ ناچیز یہ کیا مانگ رہا ہوں

    قطرے میں سمندر کی ادا مانگ رہا ہوں

    یہ فقر کی معراج ہے یا حد سے گزرنا

    میں کچھ بھی نہیں اور خدا مانگ رہا ہوں

    میں جوہرِ ہستی کی حقیقت کو گنوا کر

    اس وحدتِ مطلق کا سرا مانگ رہا ہوں

    بھٹکا ہوا نکلا تھا میں رستوں کی طلب میں

    اب اپنی ہی منزل کا پتا مانگ رہا ہوں

    مل جائے مجھے دیدۂ بینا کی بصیرت

    میں عکسِ حقیقت کی ضیا مانگ رہا ہوں

    مٹ جائے مری ذات، رہے تیرا ہی جلوہ

    میں ایسی تڑپ، ایسی فضا مانگ رہا ہوں

    حرفوں کی اسیری سے رہائی کی طلب میں

    میں لفظ سے آگے کی صدا مانگ رہا ہوں

    جو حرف و حکایت کے طلسمات کو توڑے

    میں ایسی ہی بے نام ندا مانگ رہا ہوں

    خاموش لرزتے ہوئے ہونٹوں کی پکاریں

    خالق سے میں توفیقِ ادا مانگ رہا ہوں

    اک سجدۂ بے نام میں گم ہو کے خدایا

    میں اپنی ہی ہستی سے فنا مانگ رہا ہوں

    اک قالبِ خاکی میں مقید ہوں فیاضؔ

    اور خود سے نکلنے کی دعا مانگ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے