Font by Mehr Nastaliq Web

خاموشیوں میں حرفِ صدا ڈھونڈتے رہے

فیاض احمد قیصرانی

خاموشیوں میں حرفِ صدا ڈھونڈتے رہے

فیاض احمد قیصرانی

MORE BYفیاض احمد قیصرانی

    خاموشیوں میں حرفِ صدا ڈھونڈتے رہے

    ہم لوگ تیرگی میں ضیا ڈھونڈتے رہے

    خوابوں کی وادیوں میں سلگتے ہوئے قدم

    اک ریگ زارِ شب میں گھٹا ڈھونڈتے رہے

    خود کو ہی کائنات کا مرکز بنا لیا

    مٹی کے اس بدن میں خدا ڈھونڈتے رہے

    سورج کی ہر کرن سے ہمیں دشمنی رہی

    یخ بستہ موسموں میں مزا ڈھونڈتے رہے

    شیشہ نگر میں بیٹھے ہوئے سادہ لوح لوگ

    پتھر کی بارشوں میں بقا ڈھونڈتے رہے

    نسبت تری گلی سے رہی عمر بھر ہمیں

    ہم تیرے در پہ رنگِ عطا ڈھونڈتے رہے

    انسانیت کی نبض سے غافل تھے چارہ گر

    زخموں کے واسطے وہ دوا ڈھونڈتے رہے

    وہ بن کہے ہی سنتا ہے نیت کی آرزو

    ہم حرف و لفظ میں ہی دعا ڈھونڈتے رہے

    وہ نور بن کے ذرے میں روپوش ہوگیا

    نادان وسعتوں میں خدا ڈھونڈتے رہے

    وہ تو رگِ حیات سے نزدیک تھا فیاضؔ

    ہم دشت و در میں جس کا پتا ڈھونڈتے رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے