خاموشیوں میں حرفِ صدا ڈھونڈتے رہے
خاموشیوں میں حرفِ صدا ڈھونڈتے رہے
ہم لوگ تیرگی میں ضیا ڈھونڈتے رہے
خوابوں کی وادیوں میں سلگتے ہوئے قدم
اک ریگ زارِ شب میں گھٹا ڈھونڈتے رہے
خود کو ہی کائنات کا مرکز بنا لیا
مٹی کے اس بدن میں خدا ڈھونڈتے رہے
سورج کی ہر کرن سے ہمیں دشمنی رہی
یخ بستہ موسموں میں مزا ڈھونڈتے رہے
شیشہ نگر میں بیٹھے ہوئے سادہ لوح لوگ
پتھر کی بارشوں میں بقا ڈھونڈتے رہے
نسبت تری گلی سے رہی عمر بھر ہمیں
ہم تیرے در پہ رنگِ عطا ڈھونڈتے رہے
انسانیت کی نبض سے غافل تھے چارہ گر
زخموں کے واسطے وہ دوا ڈھونڈتے رہے
وہ بن کہے ہی سنتا ہے نیت کی آرزو
ہم حرف و لفظ میں ہی دعا ڈھونڈتے رہے
وہ نور بن کے ذرے میں روپوش ہوگیا
نادان وسعتوں میں خدا ڈھونڈتے رہے
وہ تو رگِ حیات سے نزدیک تھا فیاضؔ
ہم دشت و در میں جس کا پتا ڈھونڈتے رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.