Font by Mehr Nastaliq Web

مقامِ عشق میں یہ مرتبہ خریدا ہے

فیاض احمد قیصرانی

مقامِ عشق میں یہ مرتبہ خریدا ہے

فیاض احمد قیصرانی

MORE BYفیاض احمد قیصرانی

    مقامِ عشق میں یہ مرتبہ خریدا ہے

    خودی کو بیچ کے ہم نے خدا خریدا ہے

    جھکا دیا ہے جبیں کو درِ حقیقت پر

    اسی ہنر سے تو بابِ رضا خریدا ہے

    امیرِ شہر کو حسرت ہے میرے سودے پر

    مکاں کو بیچ کے اب راستہ خریدا ہے

    سراب و خواب کی بستی سے ہجرتیں کر کے

    عدم کے دیس میں اپنا پتا خریدا ہے

    چراغِ جاں کو جلایا ہے خونِ دل دے کر

    ہوائے دہر سے لڑ کر دیا خریدا ہے

    ستارے مانگ کے لائے ہیں آسمان سے ہم

    اندھیری رات سے نورِ دعا خریدا ہے

    جلے ہیں دھوپ میں تب جا کے سائبان ملا

    تپش کے بدلے ہی ابرِ عطا خریدا ہے

    لٹا کے اپنی جوانی کی کل کمائی کو

    فقیرِ وقت نے دستِ شفا خریدا ہے

    عجب سکون ملا ہے ہمیں فقیری میں

    قبا کو بیچ کے اب بوریا خریدا ہے

    اسی کی راہِ طلب میں جبین رکھ کے فیاضؔ

    زمیں کی خاک سے ہم نے سما خریدا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے