ہر سانس میں پوشیدہ کمالات ہیں یارو
ہر سانس میں پوشیدہ کمالات ہیں یارو
انسان کے اندر ہی مقامات ہیں یارو
انسان کا انسان سے رشتہ ہی بڑا ہے
باقی تو دکھاوے کی عبادات ہیں یارو
جلتے ہوئے ہم لوگ جو رستوں میں کھڑے ہیں
بجھتے ہوئے سورج کی کرامات ہیں یارو
دیکھو تو سہی پاؤں کے چھالوں کا مقدر
صدیوں کا سفر، تھوڑے سے لمحات ہیں یارو
ہم خاک نشینوں کا مقدر ہے بلندی
قدموں کے تلے عرض و سماوات ہیں یارو
تاروں سے پرے جن کی اڑانوں کے نشاں ہیں
وہ ہم سے ہی منسوب مقامات ہیں یارو
پلکوں پہ لرزتے ہیں جو خاموش سے آنسو
وہ نوحہ نہیں، دل کی حکایات ہیں یارو
ہر لمحہ بدلتی ہے یہاں رنگ یہ دنیا
گردش میں ہی الجھے ہوئے دن رات ہیں یارو
رستوں میں کھڑے رہ گئے پتھر کے مسافر
یہ بھی تو کسی جبر کے ثمرات ہیں یارو
اپنا تو کوئی نقش قدم پا نہ سکے گا
ہم خاک میں بکھرے ہوئے ذرات ہیں یارو
فیاضؔ کو محلوں کی حقیقت کا پتا ہے
گر جائیں گی اک روز، عمارات ہیں یارو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.