Font by Mehr Nastaliq Web

ہر سانس میں پوشیدہ کمالات ہیں یارو

فیاض احمد قیصرانی

ہر سانس میں پوشیدہ کمالات ہیں یارو

فیاض احمد قیصرانی

MORE BYفیاض احمد قیصرانی

    ہر سانس میں پوشیدہ کمالات ہیں یارو

    انسان کے اندر ہی مقامات ہیں یارو

    انسان کا انسان سے رشتہ ہی بڑا ہے

    باقی تو دکھاوے کی عبادات ہیں یارو

    جلتے ہوئے ہم لوگ جو رستوں میں کھڑے ہیں

    بجھتے ہوئے سورج کی کرامات ہیں یارو

    دیکھو تو سہی پاؤں کے چھالوں کا مقدر

    صدیوں کا سفر، تھوڑے سے لمحات ہیں یارو

    ہم خاک نشینوں کا مقدر ہے بلندی

    قدموں کے تلے عرض و سماوات ہیں یارو

    تاروں سے پرے جن کی اڑانوں کے نشاں ہیں

    وہ ہم سے ہی منسوب مقامات ہیں یارو

    پلکوں پہ لرزتے ہیں جو خاموش سے آنسو

    وہ نوحہ نہیں، دل کی حکایات ہیں یارو

    ہر لمحہ بدلتی ہے یہاں رنگ یہ دنیا

    گردش میں ہی الجھے ہوئے دن رات ہیں یارو

    رستوں میں کھڑے رہ گئے پتھر کے مسافر

    یہ بھی تو کسی جبر کے ثمرات ہیں یارو

    اپنا تو کوئی نقش قدم پا نہ سکے گا

    ہم خاک میں بکھرے ہوئے ذرات ہیں یارو

    فیاضؔ کو محلوں کی حقیقت کا پتا ہے

    گر جائیں گی اک روز، عمارات ہیں یارو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے