Font by Mehr Nastaliq Web

کوئی بات دل میں نہاں رہ گئی ہے

فیاض احمد قیصرانی

کوئی بات دل میں نہاں رہ گئی ہے

فیاض احمد قیصرانی

MORE BYفیاض احمد قیصرانی

    کوئی بات دل میں نہاں رہ گئی ہے

    نگاہِ طلب نیم جاں رہ گئی ہے

    گئے وقت کی راکھ ہم چن رہے ہیں

    فقط حسرتِ رائیگاں رہ گئی ہے

    ترے گیسوؤں میں بھی چاندی بھری ہے

    جوانی مری بھی کہاں رہ گئی ہے

    فنا ہوگئے رنگ و بو کے مناظر

    فضا میں کوئی داستاں رہ گئی ہے

    ہوئے نذرِ آتش وہ خوابوں کے خیمے

    نگاہوں میں دھولِ زماں رہ گئی ہے

    وہ شوخی، وہ تیزی، وہ ہمت کہاں اب

    پروں میں سسکتی اڑاں رہ گئی ہے

    غرورِ جوانی شکستہ ہوا ہے

    فصیلِ انا بھی دھواں رہ گئی ہے

    کوئی تیر ترکش میں باقی نہیں ہے

    میرے ہاتھ خالی کماں رہ گئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے