کوئی بات دل میں نہاں رہ گئی ہے
کوئی بات دل میں نہاں رہ گئی ہے
نگاہِ طلب نیم جاں رہ گئی ہے
گئے وقت کی راکھ ہم چن رہے ہیں
فقط حسرتِ رائیگاں رہ گئی ہے
ترے گیسوؤں میں بھی چاندی بھری ہے
جوانی مری بھی کہاں رہ گئی ہے
فنا ہوگئے رنگ و بو کے مناظر
فضا میں کوئی داستاں رہ گئی ہے
ہوئے نذرِ آتش وہ خوابوں کے خیمے
نگاہوں میں دھولِ زماں رہ گئی ہے
وہ شوخی، وہ تیزی، وہ ہمت کہاں اب
پروں میں سسکتی اڑاں رہ گئی ہے
غرورِ جوانی شکستہ ہوا ہے
فصیلِ انا بھی دھواں رہ گئی ہے
کوئی تیر ترکش میں باقی نہیں ہے
میرے ہاتھ خالی کماں رہ گئی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.