پھیلی ہوئی ہر سمت تری ذات ہے مولا
پھیلی ہوئی ہر سمت تری ذات ہے مولا
باقی تو فقط حرف و اشارات ہے مولا
پا بندِ سلاسل ہے یہاں وقت کا دھارا
جو کچھ ہے یہاں قدرتِ حالات ہے مولا
کھلنے لگے اسرار تو بدلا ہے مرا رنگ
دنیا تو بس اک عکسِ طلسمات ہے مولا
درویش کے ہونٹوں پہ جو ٹھہری ہے خموشی
وہ شورِ جہاں سے بھی بڑی بات ہے مولا
پنہاں ہے جو قطرے میں وہ قلزم ہے محبت
موجوں کا تلاطم تو خرافات ہے مولا
اک موجِ فنا رقص میں رہتی ہے ہمیشہ
ہستی کی حقیقت تو فقط گھات ہے مولا
مٹی کے کھلونے کو ملی روح کی خوشبو
یہ تیری ہی بخشش تری سوغات ہے مولا
آیا تھا تہی دست، تہی دست گیا ہے
فیاضؔ کی بس اتنی سی اوقات ہے مولا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.