Font by Mehr Nastaliq Web

پھیلی ہوئی ہر سمت تری ذات ہے مولا

فیاض احمد قیصرانی

پھیلی ہوئی ہر سمت تری ذات ہے مولا

فیاض احمد قیصرانی

MORE BYفیاض احمد قیصرانی

    پھیلی ہوئی ہر سمت تری ذات ہے مولا

    باقی تو فقط حرف و اشارات ہے مولا

    پا بندِ سلاسل ہے یہاں وقت کا دھارا

    جو کچھ ہے یہاں قدرتِ حالات ہے مولا

    کھلنے لگے اسرار تو بدلا ہے مرا رنگ

    دنیا تو بس اک عکسِ طلسمات ہے مولا

    درویش کے ہونٹوں پہ جو ٹھہری ہے خموشی

    وہ شورِ جہاں سے بھی بڑی بات ہے مولا

    پنہاں ہے جو قطرے میں وہ قلزم ہے محبت

    موجوں کا تلاطم تو خرافات ہے مولا

    اک موجِ فنا رقص میں رہتی ہے ہمیشہ

    ہستی کی حقیقت تو فقط گھات ہے مولا

    مٹی کے کھلونے کو ملی روح کی خوشبو

    یہ تیری ہی بخشش تری سوغات ہے مولا

    آیا تھا تہی دست، تہی دست گیا ہے

    فیاضؔ کی بس اتنی سی اوقات ہے مولا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے