Font by Mehr Nastaliq Web

افشاں جبیں پہ اپنے وہ دلبر چنا کرے

فیاض الدین احمد

افشاں جبیں پہ اپنے وہ دلبر چنا کرے

فیاض الدین احمد

MORE BYفیاض الدین احمد

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    افشاں جبیں پہ اپنے وہ دلبر چنا کرے

    اختر شماری دل مرا شب بھر کیا کرے

    ایمان و جان و دل کو جو لے کر دغا کرے

    پھر کیا بھروسہ ہے کہ وہ دلبر وفا کرے

    سیر چمن کو نکلے وہ رنگیں قبا اگر

    جوشِ جنوں میں چاک گل تر قبا کرے

    درگاہِ کبریا میں یہ تاباںؔ کی ہے دعا

    توفیق نیک خالق داور عطا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے