وہ غیرتِ حور آیا مرے در کے قریں آج
وہ غیرتِ حور آیا مرے در کے قریں آج
گھر اپنا ہوا رشک وہ خلد بریں آج
شاداں ہے ہر اک بلبل و خنداں ہے ہر اک گل
گلشن میں جو آنے کا ہے اس گل کے یقیں آج
کیا بھول گئے ناز و ادا عشوہ و غمزہ
کیو ں بت ہو بنے بولو نہ اے لعبت چیں آج
کیا ہوگئی وہ آپ کی پہلی سی طبیعت
آپ ہوتے ہیں ہر بات پہ کیوں چیں بچیں آج
شکوہ نہ ادا کا نہ گلہ کم سخنی کا
کیوں چیں بچیں ہوتے ہو اے ماہ جبیں آج
جس نے کہ پھر ایا ہے فقیراؔ مجھے در در
کوچہ میں اسی یار کے ہوں خاک نشیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.