پیا جن مکھ تیرا دیکھا اسے پھر کیا دکھاتا ہے
پیا جن مکھ تیرا دیکھا اسے پھر کیا دکھاتا ہے
فاضل الدین قادری بٹالوی
MORE BYفاضل الدین قادری بٹالوی
پیا جن مکھ تیرا دیکھا اسے پھر کیا دکھاتا ہے
چکھا جن رس تیرے لب کا اسے پھر کیا چھکانا ہے
ہوا ہے دل میرا کولا بر ہوں کی آگ کے بھیتر
ایسے جرتے انگارے کو کہو پھر کیا جرانا ہے
عاقل ہوں نہ دیوانہ نہ محرم ہوں نہ بیگانہ
ایسے بے ہوش ہے خود کو کہو پھر کیا بتانا ہے
گرا کر ششۂ دل کو لگے جور و جفا کرنے
خدا سیں ٹک ڈرو ظالم گرے کو کیا گرانا ہے
جدائی سے جرے عالم جروں میں روبرو ہر دم
ایسے دیوانہ مجنوں کو کہو پھر کیا ستانا ہے
پیا کا درسن جن پایا ہوا ناداں نہ جانے کچھ
لیا جن سبق وحدت کا سے پھر کیا پڑھانا ہے
فنا کے بحرِ قلزم موں پڑا یہ دل گیا گزرا
نہ جاگے روزِ محشر کے اسے پھر کیا جگانا ہے
پیا جن جامِ وحدت کا نہ رکھے خوف سولی کا
اناالحق جب ہوا الحق اسے پھر کیا دکھانا ہے
ہر جا سخن تیرا دیکھوں سب موں رخن تیرا
ترا ہوں میں سجن تیرا مجھے پھر کیا لبھانا ہے
غلامؔ شاہ فاضل کا کہے دل سوں سنو یارو
دیکھو میں شاہ محی الدین مجھے پھر کیا دکھانا ہے
- کتاب : جواہرِ تصوف (Pg. 88)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.