Font by Mehr Nastaliq Web

ان اپنے ہاتھوں سے ساغر مجھے پلا تو سہی

فراق دہلوی

ان اپنے ہاتھوں سے ساغر مجھے پلا تو سہی

فراق دہلوی

MORE BYفراق دہلوی

    ان اپنے ہاتھوں سے ساغر مجھے پلا تو سہی

    لگی ہے دل میں جو ظالم اسے بجھا تو سہی

    بنے گی کیوں کہ سراپا کی اس طرح تصویر

    پڑا ہوا ہے جو پردہ، اسے اٹھا تو سہی

    اس آئینہ میں نظر آئے گا خدا تجھ کو

    دوئی کے زنگ کو سینہ سے تو ہٹا تو سہی

    قبولیت جسے کہتے ہیں، دوڑی آئے گی

    دعا کے واسطے ہاتھوں کو تو اٹھا تو سہی

    ہلال کوئی کہے گا تو کوئی پھول مجھے

    غمِ فراق میں پورا مجھے گھلا تو سہی

    نہ دیں بہشت جو تجھ کو فراقؔ سے کہنا

    غمِ حسین میں آنسو کوئی بہا تو سہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے