Sufinama

بھٹی کو چلا کیا ہوتے سحر پوچھو تو کوئی سجادؔ ستی

غلام نقشبند سجادؔ

بھٹی کو چلا کیا ہوتے سحر پوچھو تو کوئی سجادؔ ستی

غلام نقشبند سجادؔ

MORE BYغلام نقشبند سجادؔ

    بھٹی کو چلا کیا ہوتے سحر پوچھو تو کوئی سجادؔ ستی

    تھا رات تلک تو کام اس کو اشغال ستی اورادستی

    ٹک میری طرف سے بادصبا جا کر کہہ صیاد ستی

    اب جان لبوں پر بلبل کے پہنچی ہے تری بیدادستی

    تنہائی فرقت میں کیا کیا اپنا نہ یہ دل گھبراوے ہے

    پہلے ہے جو ٹک یہ ناشدنی تو صرف تمہاری یادستی

    جب آگ دھدکتی ہو اس پر مت چھیٹیو تیل خدا را تم

    کیا دل کی خوشی کو پوچھو ہو اے یارو اک ناشاد ستی

    اے بادِ سحر اے موج صبا لے جلد ہماری آکے خبر

    نکلا ہے ہمارا کام سدا تیری ہی فقط امداد ستی

    من پایا ہے اس نے دل میرا کعبہ ہے گھر اللہ کا ہے

    اب کھود کء اس کو پھیکوا دے وہ بُت نہ کہیں بنیادستی

    جو دیکھ کے ہم کو ہاتھ ملے، پچھتاوے اور افسوس کرے

    بتلا دو کوئی کریں شکوہ کیا ایسے ستم ایجاد ستی

    ٹھانا تو بہت اب جاویں گے ہرگز نہ کسو کے کوچے میں

    ہر بار مگر مجبور رہے ہم اپنے دل ناشاد ستی

    توڑا ہے وہ کب کا تقویٰ کو بھٹی میں تو اس کے گذرے ہے

    سجادہ و مسجد کی بابت مت پوچھو کچھ سجادؔستی

    مأخذ :
    • کتاب : بہارمیں اردو کی صوفیانہ شاعری (Pg. 123)
    • Author : محمد طیب ابدالی
    • مطبع : اسرار کریمی پریس الہ آباد (1988)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY