Sufinama

سمجھاؤں ہوں یہی دل ناکام کے تئیں

غلام نقشبند سجادؔ

سمجھاؤں ہوں یہی دل ناکام کے تئیں

غلام نقشبند سجادؔ

MORE BYغلام نقشبند سجادؔ

    سمجھاؤں ہوں یہی دل ناکام کے تئیں

    آغاز بیچ سو نچ لے انجام کے تئیں

    کیا جاوے گا بگڑ کہیں قدرت کا ہاتھ تک

    دیوے پلٹ جو گردش ایام کے تیئں

    سودا کرے ہے غم کا جو بازارِ عشق بیچ

    سودکھ کے بھاؤ بیچ ہے آرام کے تئیں

    واعظ سنادے سدرۂ طوبیٰ کی گفتگو

    ہم چاہیں اپنے سروگل اندام کےتئیں

    بولے ہے شیخ مجھ ستی ساقی کہ کہہ دو تم

    ایدھر کو بھی بڑھاوے کسو جام کے تئیں

    زاہد کرے ہے کعبۂ میخانہ کا جو حج کرو

    رنگے ہے مے میں جامۂ احرام کے تئیں

    بھاوے نہیں ہے شیخ کی صحبت یہ میکشو

    بیٹھا دوساتھ مت کسو بدنام کے تئیں

    سجادؔ کاہے کھینچے ہے تو آہ نار سا

    توڑے ہے کوئی بھی ثمر خام کے تئیں

    مأخذ :
    • کتاب : بہارمیں اردو کی صوفیانہ شاعری (Pg. 124)
    • Author : محمد طیب ابدالی
    • مطبع : اسرار کریمی پریس الہ آباد (1988)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY