Font by Mehr Nastaliq Web

گوشۂ چشم میں اشک در نایاب لیے

الیاس علوی شاداب

گوشۂ چشم میں اشک در نایاب لیے

الیاس علوی شاداب

MORE BYالیاس علوی شاداب

    گوشۂ چشم میں اشک در نایاب لیے

    ساز خاموش پہ بیٹھے ہیں یہ مضراب لیے

    ہے کوئی محو تخیل پئے صحن‌ گلشن

    مست آنکھوں میں جوانی کے حسیں خواب لیے

    ہے سبک رو تو ہر اک موج تبسم لیکن

    اپنے دامن میں یہ قطرہ بھی ہے سیلاب لیے

    مائل دعوت نظارا ہر اک مست خرام

    سنبلیں زلف میں سو حلقہ گرداب لیے

    مژدہ اے زمزمہ سنجان سرور و مستی

    ساغر چشم ہے پھر آج مئے ناب لیے

    مدتوں قیس کو پھرتا رہا صحرا صحرا

    پا پیادہ تن تنہا دل بیتاب لیے

    پھر تری بزم میں ہوتا ہے گل افشاں شادابؔ

    دل میں زخموں کے شگفتہ گل شاداب لیے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد نویں (Pg. 164)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے