اس کا م کا جو سر میں ہے ساماں نہیں ہوتا
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "کاریست در سرم کہ بہ ساماں نمی شود" کا اردو منظوم ترجمہ
اس کا م کا جو سر میں ہے ساماں نہیں ہوتا
اس درد کا جو دل میں ہے درماں نہیں ہوتا
اتنا نہ ہنسا اور بھی دیوانہ بنوں میں
دیوانگیِ شوق کا پایاں نہیں ہوتا
ان نرگسی آنکھوں پہ فدا جان کہ قاتل
جس قتلِ محبت پہ پشیماں نہیں ہوتا
جو شخص ترے عشق میں ہو جائے گا بے دل
بے دل تو وہ ہو جائے گا بے جاں نہیں ہوتا
کہتا ہوں برا عشق میں ہر چند میں دل کو
یہ پاپی پرانا ہے مسلماں نہیں ہوتا
کیا آتشِ الفت ہے عجب جو دلِ خسرو
جلتا ہے مگر خیر سے بریاں نہیں ہوتا
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 107)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.