صنم جو میرا ہے ماہ طلعت ،تو ماہے دیگر کی کیا ضرورت
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "مارا تو صنم ما ہے دیگر بہ چہ کار آید" کا اردو منظوم ترجمہ۔
صنم جو میرا ہے ماہ طلعت ،تو ماہے دیگر کی کیا ضرورت
ترے لبوں کا ملے جو شربت، تو پھر ہے شکّر کی کیا ضرورت
تو اپنی پلکوں سے میرے سینہ ،پہ کیوں چلاتا ہے روز خنجر
میں مر مٹا ہوں بغیر خنجر، تو مجھ کو خنجر کی کیا ضرورت
حسیں بلاؤں نے میرا سینہ، کیا ہے بالم ستم سے چھلنی
نہ پھر بھی دے دادِ سخت جانی، تو ایسے داور کی کیا ضرورت
میں اپنی قسمت کے تارے گن گن کے کاٹتا ہوں شبانِ فرقت
مگر جسے کام ہو قضا سے تو اس کو خنجر کیا ضرورت
خرد جو خسرو کے سر سے کھیلی وہ مہ وشوں کا ہوا دوانہ
خرد نہ گلزارؔ ہو دوانی تو ایسے پھر سر کی کیا ضرورت
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 117)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.