Font by Mehr Nastaliq Web

صنم جو میرا ہے ماہ طلعت ،تو ماہے دیگر کی کیا ضرورت

گلزار دہلوی

صنم جو میرا ہے ماہ طلعت ،تو ماہے دیگر کی کیا ضرورت

گلزار دہلوی

MORE BYگلزار دہلوی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "مارا تو صنم ما ہے دیگر بہ چہ کار آید" کا اردو منظوم ترجمہ۔

    صنم جو میرا ہے ماہ طلعت ،تو ماہے دیگر کی کیا ضرورت

    ترے لبوں کا ملے جو شربت، تو پھر ہے شکّر کی کیا ضرورت

    تو اپنی پلکوں سے میرے سینہ ،پہ کیوں چلاتا ہے روز خنجر

    میں مر مٹا ہوں بغیر خنجر، تو مجھ کو خنجر کی کیا ضرورت

    حسیں بلاؤں نے میرا سینہ، کیا ہے بالم ستم سے چھلنی

    نہ پھر بھی دے دادِ سخت جانی، تو ایسے داور کی کیا ضرورت

    میں اپنی قسمت کے تارے گن گن کے کاٹتا ہوں شبانِ فرقت

    مگر جسے کام ہو قضا سے تو اس کو خنجر کیا ضرورت

    خرد جو خسرو کے سر سے کھیلی وہ مہ وشوں کا ہوا دوانہ

    خرد نہ گلزارؔ ہو دوانی تو ایسے پھر سر کی کیا ضرورت

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 117)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے