پھر بتِ بدمست میرا نَے نوازی کرتا ہے
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "باز ترکِ مستِ من آہنگ بازی می کند" کا اردو منظوم ترجمہ۔
پھر بتِ بدمست میرا نَے نوازی کرتا ہے
کس اچھوتے نقش سے جادو طرازی کرتا ہے
سارا عالم سربسر ہے اس کی زلفوں کا اسیر
دیکھا اس کالے کو کیسے ترک تازی کرتا ہے
شرم سے محجوب ہوں اس کے خیالوں کے طفیل
آنکھوں میں بستا ہے وہ مردم نوازی کرتا ہے
دور سے کرتا ہے وہ شاید اشارے اس طرح
جیسے انگلی پھیر کر شیریں نوازی کرتا ہے
خونِ خسرو میں رواں ہے وہ صنم دامن کشاں
اور اس دامن پہ سجدہ بھی نمازی کرتا ہے
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 119)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.