Font by Mehr Nastaliq Web

پہونچی نہ اگر دل کی دعا یابِ اثر تک

حفیظ سلمانی

پہونچی نہ اگر دل کی دعا یابِ اثر تک

حفیظ سلمانی

MORE BYحفیظ سلمانی

    پہونچی نہ اگر دل کی دعا یابِ اثر تک

    ممکن ہے کہ پھر بات رہے درد جگر تک

    کس محفلِ پر کیف میں لائی ہے محبّت

    بھولا ہوا بیٹھا ہوں تری راہ گزر تک

    وہ بام پہ ہوتے ہیں تو ہوتا ہے سماں اور

    سائے بھی اتر آتے ہیں دیوار سے در تک

    موجوں سے گلہ کیا ہو مجھے کم نگہی کا

    پیچھا نہیں کرتے مری کشتی کا بھنور تک

    اے دل کہیں یہ وادیٔ ایمن تو نہیں ہے

    جلووں کے سوا کچھ بھی نہیں حدِّ نظر تک

    کیا حال ہوا تیرا حفیظؔ جگر افگار

    مشکل سے کسی وقت اب اٹھتی ہے نظر تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے