پہونچی نہ اگر دل کی دعا یابِ اثر تک
پہونچی نہ اگر دل کی دعا یابِ اثر تک
ممکن ہے کہ پھر بات رہے درد جگر تک
کس محفلِ پر کیف میں لائی ہے محبّت
بھولا ہوا بیٹھا ہوں تری راہ گزر تک
وہ بام پہ ہوتے ہیں تو ہوتا ہے سماں اور
سائے بھی اتر آتے ہیں دیوار سے در تک
موجوں سے گلہ کیا ہو مجھے کم نگہی کا
پیچھا نہیں کرتے مری کشتی کا بھنور تک
اے دل کہیں یہ وادیٔ ایمن تو نہیں ہے
جلووں کے سوا کچھ بھی نہیں حدِّ نظر تک
کیا حال ہوا تیرا حفیظؔ جگر افگار
مشکل سے کسی وقت اب اٹھتی ہے نظر تک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.