ہے یہی شرط بندگی کے لیے
ہے یہی شرط بندگی کے لیے
سر جھکاؤں تیری خوشی کے لیے
عشق میں جل رہے ہیں پروانے
درس عبرت ہے آدمی کے لیے
ایک زمانے کے ظلم سہتا ہوں
میں فقط آپ کی خوشی کے لیے
مل ہی جاتا ہے وہ بہر صورت
جو مقدر ہے زندگی کے لیے
خون دل اشک بن کے بہتا ہے
دل تڑپتا ہے جب کسی کے لیے
اس طرح بھی بہار آتی ہے
پھول روتے ہیں تازگی کے لیے
سچ تو یہ ہے کہ آپ ہی کا غم
اب سہارا ہے زندگی کے لیے
اپنے جلووں سے کیجیے آباد
خانۂ دل ہے آپ ہی کے لیے
ساری دنیا کو چھوڑ سکتا ہے
تیرا صادقؔ تیری خوشی کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.