اس کے کوچہ کی طرف مجھ کو نہ جان زار کھینچ
اس کے کوچہ کی طرف مجھ کو نہ جان زار کھینچ
منہ کی کھاتا ہے جو جاتا ہے وہاں آزار کھینچ
سر کٹانا شمع کا کیا کم دم عیسیٰ سے ہے
قاتلا میرے سرِ شوریدہ پر تلوار کھینچ
جا چکی فصل خزاں ہے آمد فصل بہار
بلبل زار آپ کو اب جانب گلزار کھینچ
ان د دنوں جوش جنوں ہے وحشت اپنی ہے فزوں
دل لیے جاتا ہے مجھ کو جانب کہسار کھینچ
جو کھنچا مثل خدنگ آخر گرا وہ خاک پر
دور اتنا آپ کو مجھ سے نہ اے خونخوار کھینچ
سنگ دل کے عشق میں آنکھیں مری پتھرا گئیں
سخت جانی سے جیا کرتا ہوں میں آزار کھینچ
برقعہ رخ پر ہے تجھے اس پر نہیں تابِ نگاہ
ہم سے پردہ کے لیے بہتر ہے اک دیوار کھینچ
قتل سے میرے ہوا آخر پشیماں وہ زبوںؔ
پھینک دی ہے جب تو اپنے ہاتھ سے تلوار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.