چہ گویمت کہ چہ ہستیٔ تو یا رسول نما
چہ گویمت کہ چہ ہستیٔ تو یا رسول نما
رسول شانی و شان خدا رسول نما
میں کیا کہوں کہ اے رسول نما آپ کی ہستی کتنی بلند ہے۔ آپ کی ذات میں اللہ اور رسول کی شان پائی جاتی ہے (یہ اشعار حضرت سیدنا وارث رسول نما بنارسی کی مدح میں ہیں۔ اس شعر میں خدا اور رسول کی شان سے اخلاق الٰہی اور خلق نبوی کا پرتو مراد ہے)۔
بجز تو کیست کہ پرسد مرا رسول نما
بگیر دست من بے نوا رسول نما
آپ کے سوا کون ہے مجھ کو پوچھنے والا اے رسول نما! مجھ بے نوا کی دستگیری کیجئے۔
بہ درگاہ تو بہ امید لطف آمدہ ام
نہ رد کنی ز در خویش یا رسول نما
آپ کی درگاہ میں لطف و عنایت کی امید لے کر آیا ہوں، اپنے در سے مجھے واپس نہ لوٹایئے اے رسول نما۔
بیک نگاہ تو گردد کشود کار دلم
ببیں بہ بسوئے من بے نوا رسول نما
آپ کی ایک نگاہ سے میرے دل کا کشود کار ہوجائے (یعنی مقصود ولی حاصل ہوجائے)۔ مجھ بے نوا کی طرف توجہ فرمائیے۔
مدام منظر چشمم بود جمال نبی
بس است از تو ہمیں التجا رسول نما
جمال نبوی ہر وقت میرے پیشِ نظر رہے (یعنی حضور ی حاصل ہو) آپ سے اے رسول نما بس یہی ایک التجا ہے۔
گرفتہ دامن پیر مجیب آمدہ ام
بحق دامن پاکش مرا رسول نما
حضرت پیر مجیب (مخدوم شاہ مجیب اللہ قادری، خلیفہ و جانشین حضرت رسول نما) کا دامن پکڑے آیا ہوں، ان کے دامن پاک کے طفیل میں توجہ فرمائیے۔
غلام حلقہ بگوش تو نیرؔ آمدہ است
کشادہ پیش تو دست دعا رسول نما
آپ کا غلام حلقہ بگوش نیرؔ آپ کی خدمت میں قبولیت دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے ہوئے آیا ہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 144)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.