Font by Mehr Nastaliq Web

ہمارا سر ہے فقط اس کے آستاں کے لیے

ندیم لکھنوی

ہمارا سر ہے فقط اس کے آستاں کے لیے

ندیم لکھنوی

MORE BYندیم لکھنوی

    ہمارا سر ہے فقط اس کے آستاں کے لیے

    نہ کبر و نخوت و پندار و عزوشاں کے لیے

    مجاز میں ہیں پڑے چھوڑ کر حقیقت کو

    کہاں پہنچ گئے نکلے تھے ہم کہاں کے لیے

    کبھی تو کشتۂ الفت کی دل دہی کر دو

    یہ منتظر ہے فقط ایک لفظ ہاں کے لیے

    سحر کے نالے مرے بے سبب نہیں ناصح

    جرس کی طرح میں ہوں خفتہ کارواں کے لیے

    یہ گوش گل میں صدا عندلیب کی پہنچی

    گری جو برق تو میرے ہی آشیاں کے لیے

    نتیجہ خیز ہوا چاک‌ دامن یوسف

    زلیخا داغ بنی اپنے خانماں کے لیے

    ہمارے رنج و محن کی ہے داستان طویل

    کچھ اس جہاں کے لیے ہے کچھ اس جہاں کے لیے

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلدبارہویں (Pg. 303)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے