دردِ دل کی کہانی سناؤں تجھے تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا
دردِ دل کی کہانی سناؤں تجھے تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا
میرے احوال تجھ سے نہیں ہیں چھپے تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا
تو ہمیشہ رہے میرے یوں سامنے تیرا جلوہ صنم مجھ کو دکھتا رہے
تو سنور کے کبھی پاس آیا کرے تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا
وسعتِ بیکراں کو نہ وہ جاں سکے زندہ در گور کرنے تجھے لگ پڑے
آسمان و زمیں کے بھی آنسو بہے تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا
تجھ سے روشن جہاں کتنے حمزہؔ ہوئے تجھ سے عالم، معلم، محدث بنے
تیری عظمت سے سب فیض پاتے رہے تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.