نالہ کرے کہ آہ کرے یا بکا کرے
نالہ کرے کہ آہ کرے یا بکا کرے
کیا کیا بتاؤ ایک دلِ مبتلا کرے
مضمون مزے کے کون ہمیشہ لکھا کرے
مجنوں نہیں ہے کوئی جو تنکے چنا کرے
ہمراہ اشک لخت جگر بھی ضرور آئے
پتھر بھی مینہ کے ساتھ برابر گرا کرے
سنیے زبانِ شانہ سے گر کچھ بھی ہوش ہے
دل کو کرے جو چاک وہ سر پر چڑھا کرے
آوروں کو ہنستا دیکھ کے آ جاتی ہے ہنسی
غنچہ نہ مسکرائے تو گل کب ہنسا کرے
ٹھکرائے کوئی نعش کوئی قبر کو مٹائے
مردہ سمجھ کے جو کوئی چاہے جفا کرے
مارا ہے مجھ کو ایک بت سبز رنگ نے
زہریلا سبزہ کیوں نہ لحد پر اُگا کرے
کاٹا گلا ہے تیغ نے مل کر گلے سے کیا
ہاں کوئی وصل و فصل کا یوں فیصلہ کرے
بندش میں آشیاں کی ہی دیوانہ ہو رہی
پھر عندلیب کیوں نہیں تنکے چنا کرے
ہے ہر خلا ہوا سے ملا کہتے ہیں حکیم
خالی دماغ کیوں نہیں حرص و ہوا کرے
حیرت ہے آب آئینہ میں شکل کی نمود
ممکن ہے نقش پانی پہ قائم رہا کرے
کہتا ہے ابر برق سے انصاف ہے یہی
رویا کروں میں پھوٹ کے اور تو ہنسا کرے
دل بھی جگر بھی سینہ بھی پہلو بھی چاک ہے
کس کس کا سوگ ایک اسیر بلا کرے
یوں پھک رہا ہوں سوز دروں سے مزار میں
مرگھٹ میں جس طرح کوئی مردہ جلا کرے
کہتے ہو روز مر نہیں جاتا ہے بے حیا
جب موت ہی نہ آئے تو انسان کیا کرے
بس ہے یہی صفائی بندش کا ہتھکنڈا
اے حشرؔ روزہ مرہ برابر بندھا کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.