Font by Mehr Nastaliq Web

کار کلید گر مرا دستِ دعا کرے

ہلال بنارسی

کار کلید گر مرا دستِ دعا کرے

ہلال بنارسی

MORE BYہلال بنارسی

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    کار کلید گر مرا دستِ دعا کرے

    بے قصد قفل باب اجابت کھلا کرے

    الٹا اثر کبھی شبِ فرقت دعا کرے

    بزمِ عدو سے وہ ادھر آئے خدا کرے

    اظہار مدعا پہ زباں کیا رہے خموش

    مطلب جو چھیڑ چھاڑ سے حاصل ہوا کرے

    دم دے کے تیغ ناز بتاں سے جو لوں میں دم

    تا مر کے پھر سے جینے کی لذت ملا کرے

    پہنچا دوں دست شوق گریباں کے متصل

    وہ بت ہجوم حشر میں آئے خدا کرے

    بیدل لکھے گا کاتبِ اعمال میرا نام

    قابو میں دل اگر نگہ دلربا کرے

    مل جائے دودِ آہ میں گر کچھ غبارِ دل

    ہر روز اس گلی میں بگولہ اڑا کرے

    کاری لگے نہ تیغ تغافل کا جب کہ وار

    رہ رہ کے درد دل میں ہمیشہ اٹھا کرے

    آئے تو اس کے سمت خدنگِ نگاہ ناز

    تعظیم اٹھ کے دردِ دل باوفا کرے

    دم تھا شریک حال سو وہ بھی ہوا ہے غیر

    تسکین دل کی یاس شب ہجر کیا کرے

    آنکھوں کو دوں جو گریہ فرقت کا مشورہ

    ہر رات گھر سے نوح کا طوفاں اٹھا کرے

    بر گشتہ بختیوں کا نتیجہ ہے یہ ہلالؔ

    ہو جس سے کچھ امیدِ وفا وہ دغا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے