چشم جاناں سے لگی ضربِ رگِ جاں کے قریب
چشم جاناں سے لگی ضربِ رگِ جاں کے قریب
کوئی شمشیر تھی پنہاں صفِ مژگاں کے قریب
حیرتِ عشق سے ہے دور کشاکش ساری
چشم حیراں ہے مری جلوۂِ حیراں کے قریب
رحمتوں کی تری شہ پاکے کیا جرم گنہ
در نہ بھولے سے بھی جاتا نہ میں عصیاں کے قریب
اب گریباں کی طرف ہاتھ کہیں اٹھتا ہے
آ کے وہ بیٹھ گئے ہیں مِرے داماں کے قریب
دور ہوتے گئے دل سے مرے تسکین و قرار
جتنا ہوگیا میں زلفِ پریشاں کے قریب
وہ رہی جلوہ گہ ناز سنبھال اے غمِ عشق
آگئی کشتیِٔ دل موجۂِ طوفاں کے قریب
تونے جس دن سے نظر پھیری ہے دل سے ظالم
ایک نشتر سا کھٹکتا ہے رگ جاں کے قریب
اپنے عالم سے بھی میں دور ہو جاتا ہوں
کوئی اتنا بھی نہ ہو جلوۂ جاناں کے قریب
تلخیٔ عشق رہی ہے کوئی باقی اے ہوشؔ
میٹھا میٹھا پھر اٹھا درد رگِ جاں کے قریب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.