تیرے در تک جو پہنچا نہیں
تیرے در تک جو پہنچا نہیں
وہ مسافر کہیں کا نہیں
عشق ہے زندگی بھر کا روگ
ایک دو دن کا رونا نہیں
اس نظر کا عتاب الاماں
جو گرا پھر وہ سنبھلا نہیں
ان کی چاہت سے منہ موڑ لیں
یہ انہیں بھی گوارا نہیں
تم کو اس عہد ہی کی قسم
اب کھنچے ہو تو ملنا نہیں
سنگ دل جیسا لگتا ہے وہ
دل سے شاید وہ ایسا نہیں
کیسا شہرِ نگاراں ہے یہ
زیرِ دیوار سایا نہیں
تشنگی بھی بجھے جب ہے بات
ورنہ دریا بھی دریا نہیں
اف یہ عالم ہمارے ہیں سب
اور کوئی ہمارا نہیں
مجھ سے اقبالؔ ہوگی خطا
آدمی ہوں فرشتا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.