Font by Mehr Nastaliq Web

تیرے در تک جو پہنچا نہیں

اقبال صفی پوری

تیرے در تک جو پہنچا نہیں

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    تیرے در تک جو پہنچا نہیں

    وہ مسافر کہیں کا نہیں

    عشق ہے زندگی بھر کا روگ

    ایک دو دن کا رونا نہیں

    اس نظر کا عتاب الاماں

    جو گرا پھر وہ سنبھلا نہیں

    ان کی چاہت سے منہ موڑ لیں

    یہ انہیں بھی گوارا نہیں

    تم کو اس عہد ہی کی قسم

    اب کھنچے ہو تو ملنا نہیں

    سنگ دل جیسا لگتا ہے وہ

    دل سے شاید وہ ایسا نہیں

    کیسا شہرِ نگاراں ہے یہ

    زیرِ دیوار سایا نہیں

    تشنگی بھی بجھے جب ہے بات

    ورنہ دریا بھی دریا نہیں

    اف یہ عالم ہمارے ہیں سب

    اور کوئی ہمارا نہیں

    مجھ سے اقبالؔ ہوگی خطا

    آدمی ہوں فرشتا نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے