Font by Mehr Nastaliq Web

نہ تو میکدے کی ہے جستجو نہ تلاشِ بادہ و جام ہے

اقبال صفی پوری

نہ تو میکدے کی ہے جستجو نہ تلاشِ بادہ و جام ہے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    نہ تو میکدے کی ہے جستجو نہ تلاشِ بادہ و جام ہے

    جو نفس نفس کو پلا گئی مجھے اس نگاہ سے کام ہے

    بس اسی خطا پہ مرے لیے مۓ لالہ گوں ہے نہ جام ہے

    کہ گدائی درِ میکدہ مری تشنگی پہ حرام ہے

    نہ کرم ہے ان کا نہ برہمی نہ سحر ہے اپنے نہ شام ہے

    جو اسی کا نام ہے زندگی مرا زندگی کو سلام ہے

    کبھی روشنی کبھی تیرگی یہی زندگی کا نظام ہے

    وہ نظر ملائیں تو صبح ہے وہ نظر چرائیں تو شام ہے

    تجھے چشم شوق کا واسطہ کبھی اس طرف بھی تو ساقیا

    مری ہر نظر میں ہے تشنگی تری ہر نگاہ میں جام ہے

    یہ حجاب جلوۂ حسن کیا مرے ذوقِ دید پہ رحم کھا

    ذرا مسکرا کے نقاب اُٹھا کہ نظر کو شوقِ سلام ہے

    جسے کائنات نے سن لیا وہ صدا نہیں ہے کوئی صدا

    جو تڑپ کے دل ہی میں رہ گیا وہی دردِ دل کا پیام ہے

    چمن حیات کی رونقیں کوئی دیکھے میری نگاہ سے

    یہ بہار اس کا ہے پیرہن یہ نسیم اس کا خرام ہے

    وہ نیاز و ناز کی منزلیں کہ سجی تھیں پیار کی محفلیں

    اور اب اک زمانہ گزر گیا نہ سلام ہے نہ پیام ہے

    تجھے ناز یہ کہ بہ یک نظر مرے دل کو درد بنا دیا

    مجھے یہ غرور کہ آج بھی مرے لب پہ تیرا ہی نام ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے