میں جس قدر ہوں آج ترے آستاں سے دور
میں جس قدر ہوں آج ترے آستاں سے دور
شائد زمیں بھی اتنی نہ ہو آسماں سے دور
ایسے بھی ہوں گے جن کو ترا قرب ہے نصیب
اک ہم کہ تجھ سے دور ترے آستاں سے دور
اتنا قریب وہ کہ رگِ جاں سے بھی قریب
یا دور اس قدر کہ خیال و گماں سے دور
اب جاؤں بھی تو جاؤں کدھر میں شکستہ دل
گھر بھی یہاں سے دور وہ در بھی یہاں سے دور
مقسوم جب ہو جلنا تو پھر فرق کچھ نہیں
آگ اپنے آشیاں میں ہو یا آشیاں سے دور
کیسی رُتیں گزاریں کہ یہ بھی نہیں کھلا
ہم دور ہیں بہار سے یا ہیں خزاں سے دور
ہیں ذوقِ بندگی میں کہاں تک لطافتیں
دیکھوں تو سجدہ کرکے ترے آستاں سے دور
اقبالؔ دل عجب ہے تمناؤں کا دیار
اتنے دیے مکاں میں اجالا مکاں سے دور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.