کس رنگ میں ڈوبا ہے مرا وہ شہ دیں آج
کس رنگ میں ڈوبا ہے مرا وہ شہ دیں آج
بے مثل ہے سرو چمنِ شرع متیں آج
معشوق طرح دار ہزاروں ہیں حسیں آج
پراس شہ خوبی کے ہیں سب زیر نگیں آج
کیوں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ہے یہ چرخ بریں آج
کیوں پھٹ پڑی مجھ پر مرے اللہ زمیں آج
کیا جور و ستم سہنے کو تھے ایک ہمیں آج
کیا رنج ہی اٹھانے کو رہا ہے یہ حزیں آج
کس ڈھب سے ہے جا بیٹھا رقیب اس کے قریں آج
کیا ہوگئے اس بت کے ہیں سب غصہ و کیں آج
جب دور ہوا پردۂ غفلت تو یہ دیکھا
ہے خانۂ دل میں مرے اللہ مکیں آج
دے جلد خبر جا کے صبا بلبل دل کو
ہے دام کو صیاد لیے زیر مکیں آج
آنکھوں میں پھڑک دل سے طپاں ہچکی بندھی ہے
آتا ہو شہ کشور خوبی نہ کہیں آج
ہم وصل کی شب غیروں سے یہ کہہ کے اٹھ آے
یہ بزم تمہارا ہے تو لو بیٹھو تمہیں آج
لب بند رقیبوں کے ہیں اور میری بنی ہے
بگڑے ہیں وہ اس طرح کہ ہے خیر نہیں آج
خوں روتا ہوں دل ٹکڑے ہے حسرتؔ کو نہ پوچھو
جا لیٹا ہے دلبر جو مرا زیر زمیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.