Font by Mehr Nastaliq Web

کس رنگ میں ڈوبا ہے مرا وہ شہ دیں آج

ارادت حسین خاں

کس رنگ میں ڈوبا ہے مرا وہ شہ دیں آج

ارادت حسین خاں

MORE BYارادت حسین خاں

    کس رنگ میں ڈوبا ہے مرا وہ شہ دیں آج

    بے مثل ہے سرو چمنِ شرع متیں آج

    معشوق طرح دار ہزاروں ہیں حسیں آج

    پراس شہ خوبی کے ہیں سب زیر نگیں آج

    کیوں ٹوٹ پڑا مجھ پہ ہے یہ چرخ بریں آج

    کیوں پھٹ پڑی مجھ پر مرے اللہ زمیں آج

    کیا جور و ستم سہنے کو تھے ایک ہمیں آج

    کیا رنج ہی اٹھانے کو رہا ہے یہ حزیں آج

    کس ڈھب سے ہے جا بیٹھا رقیب اس کے قریں آج

    کیا ہوگئے اس بت کے ہیں سب غصہ و کیں آج

    جب دور ہوا پردۂ غفلت تو یہ دیکھا

    ہے خانۂ دل میں مرے اللہ مکیں آج

    دے جلد خبر جا کے صبا بلبل دل کو

    ہے دام کو صیاد لیے زیر مکیں آج

    آنکھوں میں پھڑک دل سے طپاں ہچکی بندھی ہے

    آتا ہو شہ کشور خوبی نہ کہیں آج

    ہم وصل کی شب غیروں سے یہ کہہ کے اٹھ آے

    یہ بزم تمہارا ہے تو لو بیٹھو تمہیں آج

    لب بند رقیبوں کے ہیں اور میری بنی ہے

    بگڑے ہیں وہ اس طرح کہ ہے خیر نہیں آج

    خوں روتا ہوں دل ٹکڑے ہے حسرتؔ کو نہ پوچھو

    جا لیٹا ہے دلبر جو مرا زیر زمیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے