Font by Mehr Nastaliq Web

اس کے سوا خدا سے کوئی کیا دعا کرے

ارادت الحق کاوش

اس کے سوا خدا سے کوئی کیا دعا کرے

ارادت الحق کاوش

MORE BYارادت الحق کاوش

    دلچسپ معلومات

    یہ غزل گیا کے لٹریری کلب میں 1898ء کے دوران منعقدہ ایک مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے میں فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے مصرعِ طرح دیے گئے تھے، اردو مصرعِ طرح „کیا شکر کوئی نعمت حق کا ادا کرے“ تھا، مشاعرے میں پڑھی گئی غزلوں کو بابو رام پرشاد اور شرر گیاوی کی نگرانی میں اور شیخ محمد حسین کے اہتمام سے 4 مارچ 1899ء کو مطبع محمدی، گیا سے 28 صفحات پر شائع کیا گیا۔

    اس کے سوا خدا سے کوئی کیا دعا کرے

    اپنے جمال پاک کا محو لقا کرے

    وہ مر کے پائے عمر ابد تو عجب نہیں

    جو شخص اپنی ہستیٔ فانی فنا کرے

    حوروں کا وصف ہے تو صفت ہے شراب کی

    رندانہ وعظ کوئی کہاں تک سنا کرے

    سرو سہی ہے پست ترے قد کے سامنے

    اونچا ہے باغ میں تو یہ اونچا ہوا کرے

    کاوشؔ کیا ہے حضرتِ اکبر نے فیصلہ

    کیا کوئی شکر نعمتِ حق کا ادا کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے