Font by Mehr Nastaliq Web

درد کا جب تک مزا حاصل نہ تھا

ارم لکھنوی

درد کا جب تک مزا حاصل نہ تھا

ارم لکھنوی

MORE BYارم لکھنوی

    درد کا جب تک مزا حاصل نہ تھا

    دل کہے جانے کے قابل دل نہ تھا

    ہائے ان مجبوریوں کو کیا کروں

    میں بھی خود فریاد کے قابل نہ تھا

    بھیک رکھ لو جو دعائیں دے گیا

    وہ فقیرِ عشق تھا سائل نہ تھا

    او لٹانے والے گلہائے کرم

    سب کا دل تھا کیا ہمارا دل نہ تھا

    جاں بری مشکل بھی ہم کو اے ارمؔ

    وہ بچا لیتے تو کچھ مشکل نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے