مجھ کو کو دکھلائے گا کیوں کر نقشہ رخسار کھینچ
مجھ کو کو دکھلائے گا کیوں کر نقشہ رخسار کھینچ
پہلے کاغذ پر تو اے مانی خط گلزار کھینچ
اس مربع میں ہوا ہے لوح آزادی درست
نقشہ اس بے مثل کا بہزاد صنعت کار کھینچ
ایسا رفتار نزاکت سے نہ مجھ خاروں کو روند
بس سنبھل چل پاؤں ایذا سے غریب زار کھیچ
چھوڑ بیٹھیں چشم نظّار اابھی سے عشق باز
لا چکے معمار تا گردن سرِ دیوار کھینچ
رات گزری پھر مئے وصلت پلا دے ساقیا
بامداداں پھر صبوحی لیں ذرا میخوار کھینچ
بس گلوں کے وصل میں اتنا نہ دفتر کھولیے
ہم بھی دکھلاتے ہیں شکووں کے ابھی طومار کھینچ
صلح کر لو بر طرف ہو جائیں اگلی رنجشیں
ہوگے رسوا ہم جولائے برلب اظہار کھینچ
اس گلستاں میں ہوں ایسا بلبلِ صحرا نورد
پنجۂ اوراق گل لے پاؤں سے ہر خار کھینچ
اشک پر خوں نہیں ارشادؔ تر نوک مژہ
لخت دل آیا ہے شاید تالبِ سوفار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.