Font by Mehr Nastaliq Web

مجھ کو کو دکھلائے گا کیوں کر نقشہ رخسار کھینچ

ارشاد حسین بہاری

مجھ کو کو دکھلائے گا کیوں کر نقشہ رخسار کھینچ

ارشاد حسین بہاری

MORE BYارشاد حسین بہاری

    مجھ کو کو دکھلائے گا کیوں کر نقشہ رخسار کھینچ

    پہلے کاغذ پر تو اے مانی خط گلزار کھینچ

    اس مربع میں ہوا ہے لوح آزادی درست

    نقشہ اس بے مثل کا بہزاد صنعت کار کھینچ

    ایسا رفتار نزاکت سے نہ مجھ خاروں کو روند

    بس سنبھل چل پاؤں ایذا سے غریب زار کھیچ

    چھوڑ بیٹھیں چشم نظّار اابھی سے عشق باز

    لا چکے معمار تا گردن سرِ دیوار کھینچ

    رات گزری پھر مئے وصلت پلا دے ساقیا

    بامداداں پھر صبوحی لیں ذرا میخوار کھینچ

    بس گلوں کے وصل میں اتنا نہ دفتر کھولیے

    ہم بھی دکھلاتے ہیں شکووں کے ابھی طومار کھینچ

    صلح کر لو بر طرف ہو جائیں اگلی رنجشیں

    ہوگے رسوا ہم جولائے برلب اظہار کھینچ

    اس گلستاں میں ہوں ایسا بلبلِ صحرا نورد

    پنجۂ اوراق گل لے پاؤں سے ہر خار کھینچ

    اشک پر خوں نہیں ارشادؔ تر نوک مژہ

    لخت دل آیا ہے شاید تالبِ سوفار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے