Font by Mehr Nastaliq Web

ساطع ہوا برقعہ کا رخ پردہ نشیں آج

ارشاد حسین بہاری

ساطع ہوا برقعہ کا رخ پردہ نشیں آج

ارشاد حسین بہاری

MORE BYارشاد حسین بہاری

    ساطع ہوا برقعہ کا رخ پردہ نشیں آج

    چمکے گا نہ کیوں ڈانک سے کندن کا نگیں آج

    توصیف سے پہنچا ہوں میں حضرت کے قریں آج

    مرآت مصفا ہیں دل و دیدہ و دیں آج

    ہاں عالم معنی سے محض ذات بشر میں

    ناظر ہوا اس باغ کا اک پردہ نشیں آج

    ہے دخل کسی غیرت بادِ سحری کا

    رشکِ گل خنداں ہے مدینہ کی زمیں آج

    بجلی ترے دانتوں نے عبث مجھ پہ گرائی

    آنکھیں تو گہر بار ہوئیں پیش ازیں آج

    باندھے ہیں کمر آج جو ہونا ہے سو ہو جائے

    ہم مانتے اس سر کی قسم ہاں نہ نہیں آج

    بہکا ہوا مجھ وحشی کا جاتا ہے کبوتر

    ڈرتا ہوں کہ پرزے نہ اڑیں خط کے کہیں آج

    سر دیتا ہوں کس طرح سے میں راہ وفا میں

    ثابت قدمی دیکھیں مری اہل یقیں آج

    آ دیکھو جو مرتے نہیں دیکھا ہو کسی کو

    اے رشک مسیحا ہے دمِ باز پسیں آج

    آپہنچی ہے نزدیک اجل یا ہے ابھی دور

    بیٹھے ہیں کئی شخص مرے بُعد و قریں آج

    ارشادؔ چلو یاں سے نہیں رہنے کی کچھ فکر

    دو گز مرے چل بسنے کو کافی ہے زمیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے