ساطع ہوا برقعہ کا رخ پردہ نشیں آج
ساطع ہوا برقعہ کا رخ پردہ نشیں آج
چمکے گا نہ کیوں ڈانک سے کندن کا نگیں آج
توصیف سے پہنچا ہوں میں حضرت کے قریں آج
مرآت مصفا ہیں دل و دیدہ و دیں آج
ہاں عالم معنی سے محض ذات بشر میں
ناظر ہوا اس باغ کا اک پردہ نشیں آج
ہے دخل کسی غیرت بادِ سحری کا
رشکِ گل خنداں ہے مدینہ کی زمیں آج
بجلی ترے دانتوں نے عبث مجھ پہ گرائی
آنکھیں تو گہر بار ہوئیں پیش ازیں آج
باندھے ہیں کمر آج جو ہونا ہے سو ہو جائے
ہم مانتے اس سر کی قسم ہاں نہ نہیں آج
بہکا ہوا مجھ وحشی کا جاتا ہے کبوتر
ڈرتا ہوں کہ پرزے نہ اڑیں خط کے کہیں آج
سر دیتا ہوں کس طرح سے میں راہ وفا میں
ثابت قدمی دیکھیں مری اہل یقیں آج
آ دیکھو جو مرتے نہیں دیکھا ہو کسی کو
اے رشک مسیحا ہے دمِ باز پسیں آج
آپہنچی ہے نزدیک اجل یا ہے ابھی دور
بیٹھے ہیں کئی شخص مرے بُعد و قریں آج
ارشادؔ چلو یاں سے نہیں رہنے کی کچھ فکر
دو گز مرے چل بسنے کو کافی ہے زمیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.