کشمکش ہائے جنوں سے پھر جو دل گھبرا گیا
کشمکش ہائے جنوں سے پھر جو دل گھبرا گیا
پھر خیالِ زلفِ جاناں بیڑیاں پہنا گیا
چھین کر کس کی نگاہِ فتنہ پرور لے گئی
کیا بتائیں کیا ہوا پہلو سے دل کیسا گیا
ہائے کیا ہنگامہ آرا تھی جدائی کی گھڑی
ہم ادھر روتے رہے اور دل اُدھر روتا گیا
حسرتِ خوں گشتہ کا افسانہ میں کب تک سنوں
اے ہجوم یاس اب بس کر کہ جی گھبرا گیا
وائے رسوائی کہ بعدِ مرگ بھی لاشہ مرا
اپنے ہی دامانِ رسوائی میں کفنایا گیا
کشمکش ہائے ستم کو تیرے فرصت مل گئی
مٹ گیا جھگڑا کہ غم کو میں مجھے غم کھا گیا
کر لی کچھ ہم نے بھی مشقِ بے قراری ہائے شوق
دل کے صدقے میں ہمیں بھی کچھ تڑپنا آگیا
آج ہی قسمت سے قاتل بھی تماشا خواہ ہے
آج ہی اے دل تڑپ لے جس قدر تڑپا گیا
رونے والا کون تھا توفیقؔ میری قبر پر
ابر آ کر چار قطرے اشک کے برسا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.