Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

کشمکش ہائے جنوں سے پھر جو دل گھبرا گیا

جلال الدین توفیقؔ

کشمکش ہائے جنوں سے پھر جو دل گھبرا گیا

جلال الدین توفیقؔ

MORE BYجلال الدین توفیقؔ

    کشمکش ہائے جنوں سے پھر جو دل گھبرا گیا

    پھر خیالِ زلفِ جاناں بیڑیاں پہنا گیا

    چھین کر کس کی نگاہِ فتنہ پرور لے گئی

    کیا بتائیں کیا ہوا پہلو سے دل کیسا گیا

    ہائے کیا ہنگامہ آرا تھی جدائی کی گھڑی

    ہم ادھر روتے رہے اور دل اُدھر روتا گیا

    حسرتِ خوں گشتہ کا افسانہ میں کب تک سنوں

    اے ہجوم یاس اب بس کر کہ جی گھبرا گیا

    وائے رسوائی کہ بعدِ مرگ بھی لاشہ مرا

    اپنے ہی دامانِ رسوائی میں کفنایا گیا

    کشمکش ہائے ستم کو تیرے فرصت مل گئی

    مٹ گیا جھگڑا کہ غم کو میں مجھے غم کھا گیا

    کر لی کچھ ہم نے بھی مشقِ بے قراری ہائے شوق

    دل کے صدقے میں ہمیں بھی کچھ تڑپنا آگیا

    آج ہی قسمت سے قاتل بھی تماشا خواہ ہے

    آج ہی اے دل تڑپ لے جس قدر تڑپا گیا

    رونے والا کون تھا توفیقؔ میری قبر پر

    ابر آ کر چار قطرے اشک کے برسا گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے