مرنا تھا کسی پر تو دل کو مرے مرنا تھا
مرنا تھا کسی پر تو دل کو مرے مرنا تھا
اس طرح مگر مجھ کو بدنام نہ کرنا تھا
اچھا تھا جلا دیتے گرمیٔ تعارف سے
پر تیغِ تجاہل سے یوں ذبح نہ کرنا تھا
بے رحمیوں نے تیری سب کچھ تو کیا ظالم
پریوں مری حسرت کو برباد نہ کرنا تھا
وہ عالمِ بے ہوشی وہ ماتمِ خاموشی
فرقت میں تری گویا جنیا مرا مرنا تھا
کیا اور نہ تھیں راہیں گھر غیر کے جانے کی
کیا میرے ہی گھر پر سے آج ان کو گزرنا تھا
اچھا بھی ہوا ظالم مارا تری غفلت نے
ہم یوں بھی تو مر جاتے آخر کبھی مرنا تھا
گھٹ گھٹ کے نکلنا تھا توفیقؔ مرے دم کو
قسمت میں دمِ آخر نالہ بھی نہ کرنا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.