کس طرح بزم سے اپنی مجھے ٹالے کوئی
کس طرح بزم سے اپنی مجھے ٹالے کوئی
نگہِ ناز نہیں ہوں جو اٹھا لے کوئی
کوئی افتاد ہو ایسی کہ برنگِ دامن
گر پڑوں پاؤں پہ جب میں تو اٹھا لے کوئی
حسنِ تقدیر سے پڑ جائے کوئی بیچ ایسا
زلف کی طرح جو بگڑوں تو بنا لے کوئی
خود نکل آئے گا پہلو سے تڑپ کر مرا دل
پہلے ارماں تو مرے دل سے نکالے کوئی
اے خیال خمِ گیسو نکل اب تو دل سے
سانپ کی طرح کہاں تک تجھے پالے کوئی
کیا کرے تو ہی بتا اے ہوسِ ناکامی
دل کو تھامے کہ تمنا کو سنبھالے کوئی
بڑھ گئی شانۂ تدبیر سے الجھن میری
میں وہ گیسو ہی نہیں ہو جو بنا لے کوئی
میری مشکل کبھی آسان نہ ہوگی توفیقؔ
شوق کانٹا نہیں جو دل سے نکالے کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.