سرِ محشر کسی کی یادِ قامت لے کے جاتے ہیں
سرِ محشر کسی کی یادِ قامت لے کے جاتے ہیں
قیامت ہے قیامت میں قیامت لے کے جاتے ہیں
بتائیں کیا کہ مرگِ نامرادی کیسی ہوتی ہے
انہیں سے پوچھیے جو دل میں حسرت لے کے جاتے ہیں
تماشا دیدنی ہے دیکھ آکر بام پر تو بھی
شہیدِ ناز کی احباب میت لے کے جاتے ہیں
گلہ کیا دل میں حسرت لے کے نکلے بزم سے تیری
یہی بس ہے کہ ہم دل کو سلامت لے کے جاتے ہیں
عدم کے جانے والے سب چھپا لیتے ہیں منہ اپنا
خدا جانے کہ یہ کیا کیا ندامت لے کے جاتے ہیں
ترے کوچے سے لے جاتے ہیں سیرِ حسن کی خواہش
کہ ہم جنت سے بھی ارمانِ جنت لے کے جاتے ہیں
لیے جا زاہد احسنِ عمل تو اپنا محشر میں
ہم اپنے ساتھ امیدِ شفاعت لے کے جاتے ہیں
ضرورت ان کو سننے کی نہیں جب داستاں میری
مرے ارماں مجھے کیوں بے ضرورت لے کے جاتے ہیں
عزیز گردش وحشت ہوں اے توفیقؔ مرکر بھی
بگولے سر پہ میری خاکِ تربت لے کے جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.